Search And Watch Online Movies - Total Videos Clip Play 999.99 Milion
Welcome, Guest
You have to register before you can post on our site.

Username/Email:
  

Password
  





Search Forums

(Advanced Search)

Forum Statistics
» Members: 708
» Latest member: ayeshanoor
» Forum threads: 3,575
» Forum posts: 5,706

Full Statistics

Online Users
There are currently 34 online users.
» 0 Member(s) | 34 Guest(s)

 
Information Pakistani Best Prizebond Guess Paper
Posted by: Syed Qasim Shah - 14-12-2017, 04:36 PM - Forum: Prizebond Papers - No Replies

Pakistani Very Beautiful Guess Paper Design By Syed Qasim Shah, Game Free Hai 200 Rupee Bond Ke Draw Ke 4 Aakre Gurrenty Ke Sath Hasil Karen.

   

Print this item

Information رمضان کے حروف اور ان کی برکتیں
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:57 PM - Forum: All About Islam - No Replies

رمضان کے پانچ حروف ہیں

''ر'' رضوان اللہ (اللہ کی خوشنودی) ہے۔
''م'' محابۃ اللہ کی ہے (اللہ کی محبت)۔
''ض'' ضمان اللہ کا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری)
''الف'' الفت کا ہے اور
''ن'' سے مراد نور اور نوال ہے (مہربانی اور بخشش) (غنیۃ الطالبین ، صفحہ ٣٩٠)

روزہ نہ رکھنا گناہ کبیرہ ہے:

ارکانِ اسلام کا ایک رکن روزہ ہے۔ سردار دوجہاں سید کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ سب سے اول توحید و رسالت کا اقرار۔ اس کے بعد اسلام کے چار رکن ہیں۔ ١۔ نماز۔٢: روزہ۔ ٣: زکوٰۃ۔ ٤: حج۔ کتنے مسلمان ہیں جو مردم شماری میں مسلمان شمار ہوتے ہیں۔ لیکن ان چاروں ارکان میں سے ایک کے بھی کرنے والے نہیں ہیں۔ البتہ وہ سرکاری کاغذات میں مسلمان لکھے جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے دفتر میں وہ کامل مسلمان شمار نہیں ہوسکتے۔ اس لئے کہ روزہ نہ رکھنا کبیرہ گناہ ہے یہ بھی اس وقت ہے کہ جب وہ روزے کی فرضیت کا اعتقاد رکھتا ہو۔ اور جو اس کی فرضیت کا انکار کرے تو وہ بلاشبہ کافر ہے۔

Print this item

Information فضائل رمضان المبارک احادیث کی روشنی میں
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:47 PM - Forum: All About Islam - No Replies

حدیث ١:

بے شک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہوا سفید اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ اے پروردگار اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔

حدیث ٢:

رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کراوراے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔ کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ۔ کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ اللہ بزرگ و برتر رمضان شریف کی ہر رات میں افطاری کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتاہے جب عید کا دن آتا ہے تو اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے کہ جتنے تمام مہینہ میں آزاد فرماتا ہے۔ تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار۔(یعنی اٹھارہ لاکھ)

حدیث ٣: 

رمضانِ پاک کی آخری رات میں میری امت کی بخشش کی جاتی ہے۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ شبِ قدر ہے۔ فرمایا نہیں لیکن کام کرنے والے کا اجر پورا دیا جاتا ہے۔ جب کہ وہ اپنا کام ختم کرتا ہے۔

حدیث ٤:

تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہو۔ پس ہم منبرکے پاس حاضر ہوئے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا''آمین''۔ اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب منبر شریف سے اترے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ فرمایا بے شک جبرئیل ں نے آکر عرض کی کہ ــ''بے شک وہ شخص دور ہو (رحمت سے یا ہلاک ہو) جس نے رمضان شریف کو پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی'' میں نے کہا ــ''آمین ''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا: ''وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے ''میں نے کہا ''آمین''جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا کہ'' دور ہو وہ شخص جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع پائے پھر بھی کوتاہی کے نتیجے میں جنت میں داخل نہ ہوسکے ''میں نے کہا ''آمین''

حدیث ٥:

سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ رسول خُداا نے فرمایا کہ ''آدم کے بیٹے کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے ایک نیکی سے دس گنا سے سات سو تک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ''مگر روزہ کہ اس کا ثواب بے شمار ہے ، بے شک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔'' روزہ دار اپنی خواہش اور طعام میرے لئے چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی افطار کے وقت۔ اور ایک خوشی دیدارِ الٰہی کے وقت ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور روزے ڈھال ہیں۔''

حدیث ٦:

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔

Print this item

Information جہاد اور روح جہاد کتاب و سنت کی روشنی میں
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:39 PM - Forum: General Discussion ( Mix Topic ) - No Replies

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
   
جہاد آج پوری دنیامیں بحث کا موضوع بناہواہے۔انگریزی اوردوسری مغربی زبانوں میں جہادپر موجودہ دورکی متشدد ''جہادی'' تحریکات کے ظہوراوران کی پرتشددکارروائیوں کے پس منظرمیں بہت کچھ لکھاجارہاہے۔اسلامی فقہ کا کلاسیکل تصورجہادبھی معرض بحث میں ہے ۔اسلام کے سیاسی نظام اوربین الاقوامی تعلقات کے پس منظرمیں بھی وہ اکثر و بیش تر ہدف تنقید بنتا ہے۔ وجہ ہمارے ناقص خیال میںیہ ہے کہ موجودہ فکراسلامی اس ضمن میں جدیدذہن کے شکوک وشبہات دورکرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔و ہ فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہے۔ انسان کے دل کی آواز اور اس کی عقل 'وجدان'، جذبات اور فطرت سب کو اپیل کرتا ہے۔ آزادی فکر و شعور ہر انسان کو پسند ہے۔ کوئی انسان یہ نہیں چاہتاکہ کوئی چیز اس پر خارج سے تھوپ دی جائے۔ اس کی فطرت اس سے اِبا کرتی ہے۔اور اسلام نے اپنی ہر ہر تعلیم میں انسان کی اس فطرت کا پورا لحاظ رکھا ہے۔ مذہبی آزادی کے سلسلہ میں اسلام کا اصول الاصول 'لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ'، ''دین میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے'' (البقرہ ۲: ۲۵۶)۔ اس لحاظ سے جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ملتی جو انسانی عقل وفطرت کے منافی ہو، مگر روایات حدیث، فقہی آرا اور فکر اسلامی کے وسیع ذخیرہ میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو اشکالات سے خالی نہیں جن کو عقل عام قبول نہیں کرتی۔ ہمارے علما وفقہا ودانش وران دوراز کار توجیہیں کرکے ان کو مطابق عقل کرنے کی اپنی سی کوششیں کرتے ہیں، مگر بات کچھ بنتی نظر نہیں آتی۔ مثال کے طور پر اس بات کا دعویٰ ہر ایک کرتا ہے کہ اسلام آزادی ضمیر وآزادی دین ومذہب کا علم بردار ہے۔ پھر جب جہاد کی تشریح کرنے پرآتے ہیں تو ایک گروہ کہتا ہے کہ جہاد کفر کے خاتمہ کے لیے ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر 'لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ' کا اصول کہاں گیا۔ایک دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نہیں کفر کا خاتمہ تو جہاد کا مقصد نہیں، البتہ شوکت کفر کا خاتمہ ضرور مقصود ہے، یعنی اہل کفر کو کفر پر زندہ رہنے کی تو اجازت ہے، مگر غالب پوزیشن میں نہیں، بلکہ مغلوب وماتحت بن کر۔ لیکن اشکال سے خالی جہاد کی یہ توجیہ بھی نہیں کہ جب آپ اصولاً اہل کفر کا اپنے کفر پر باقی رہنے کا حق تسلیم کرتے ہیں تو اپنے ملک وعلاقہ میں ان کو اپنے نظام پر چلنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے حق سے کس بنیاد پر محروم کردیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب دینا ممکن نہیں، جب کہ اس فکر کے علم بردار امن عالم اور بقاے باہم کی باتیں بھی خوب کرتے ہوں؟ تکثیریت اور تحمل برداشت اور Plural سماج کے قائل بھی ہوں؟
جہاد کے علاوہ ارتداد کی سزا پر بھی اسی طرح مختلف اشکالات وارد ہوتے ہیں جن کا اطمینان بخش عقل وروح کو مطمئن کرنے والا جواب روایتی اور موجودہ فکر اسلامی کے پاس نہیں۔ جو جوابات بھی روایتی علما، فقہ قدیم کے پرستار یا اسلام پسند حضرات دیتے ہیں، وہ روایات حدیث اور فقہی آرا کی اساس پر دیتے ہیں اور ان دونوں پر پھر اشکالات ہیں جن کی توجیہ تاویلات بار دہ و تکلف کرکے کرنی پڑتی ہے۔ اس سلسلہ میں جن لوگوں نے مولانا مودودی رحمہ اللہ کاکتابچہ ''مرتد کی سزا'' پڑھا ہوگا، وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہیں گے کہ مصنف بڑے زور لگا لگاکر جو عقلی جواب ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائے ہیں، وہ خود نئے سوال کھڑے کردیتے ہیں( اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) ۔اسی طرح ان کا نظریہ مصلحانہ جنگ ہے۔ہمارے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ایک بنیادی وسنگین غلطی کا شکار ہیں، وہ یہ ہے کہ اپنے دین کے سلسلہ میں ہم قرآن پاک کو اصل مصدر وسورس نہیں بناتے۔ اور بجاے اس کے کہ ہر چیز میں اسی کو اپنے لیے حکم بنائیں، کہیں اس پر روایات کو حاکم بنا ڈالتے ہیں اور کہیں فقہی آرا ومذاہب کواس پر مسلط کر ڈالتے ہیں۔ ہم اپنے ہر سوال کا جواب اگر قرآن سے ڈھونڈیں تو ضرور کافی وشافی جواب ملے گا اور ہر اشکال ختم ہوجائے گا۔
حالیہ دنوں میں جہاد اور اس کے متعلقات پر کئی اچھی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں۔ عربی میں ''فقہ الجہاد'' از علامہ یوسف القرضاوی، اردو میں مولانا محمد عمار خان ناصراور مولانا یحییٰ نعمانی کی کتابیں۔ اور بالکل تازہ بہ تازہ استاذ محترم مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی کے گہربار قلم سے ''جہاد اور روح جہاد'' آئی ہے۔ ۳۸۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب جہاد اور اس کے تمام متعلقات سے جامع انداز میں بحث کرتی ہے۔ جہاد کیاہے، اس کی روح کیا ہے؟ اس کے مقاصد، اس کے جواز اور اس کے ثمرات ونتائج کیا ہیں، وہ کب فرض ہوتا ہے، اس کی شرائط وعناصرکیا ہیں وغیرہ تمام مباحث کا جواب انھوں نے دیا ہے۔جہادکے عناصرو شرائط مصنف کے نزدیک پانچ ہیں۔بلندایمانی کردار،محکم اجتماعیت، صالح و compitent قیادت، مستقبل کی منصوبہ بندی اورآزادسلطنت۔ اس کتاب کی اصل خوبی جو اسے دوسری تمام کتابوں سے ممتاز کرتی ہے، یہ ہے کہ مصنف نے بحث کی اصل صرف ا ور صرف کتاب اللہ کو بنایا ہے۔ جتنے اعتراضات، شبہات وسوالات پیدا ہوتے ہیں، ان کا شافی وکافی جواب خود قرآن کی روشنی میں دیا ہے۔ کتاب کے ایک باب جہادعصرحاضرمیں انھوں نے ''جہادی تحریکوں''اوران کے حامیوں کے دلائل کا جائزہ لیاہے اوران کے مغالطوں کو آشکارا کیا ہے۔
استاذمحترم مولاناعنایت اللہ سبحانی فراہی مکتب فکرکے نہایت ممتازعالم اورقرآن کریم سے گہراشغف رکھتے ہیں۔ قرآن پاک پر غوروفکرہی ان کا اوڑھنابچھوناہے ۔وہ حدیث و فقہ، آراء سلف اور معاصر علماے کرام کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ہیں، مگر قرآن کی روشنی میں۔ ان کے ہاں ردوقبول کا اصل معیار صرف اور صرف یہی کتاب عزیز ہے۔ لہٰذا روایاتِ حدیث ، ائمۂ فقہ کے مذاہب اور آراء سلف وغیرہ ان کی راہ میں روڑے نہیں بنتے۔ وہ ان میں سے کسی بھی چیز کے اسیر نہیں، لہٰذا قرآن کی روشنی میں وہ ساری وادیاں بہ آسانی قطع کرلیتے ہیں۔
مصنف جہاد اقدام اور جہاد دفاع دونوں کے قائل ہیں، مگر وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ جہاد نہ کفر کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ شوکت کفر کو توڑنے کے لیے، بلکہ صرف اور صرف جارحیت کے مرتکب اور ظلم وجبر کرنے والے کافروں سے ہوتا ہے۔ مولانا نے تفصیل سے عام علما وفقہا کے موقف اور مولانا مودودی (بغیرنام لیے )دونوں کے موقف کا جائزہ لیاہے اور دونوں کو دلائل کی بنیاد پر رد کردیا ہے (ملاحظہ ہو جہاد اور روح جہاد صفحہ ۴۵تا ۸۵)۔ وہ فرماتے ہیں: ''مسلح جہاد کا مقصد ہے اس زمین سے ظلم واستبداد کو ختم کرنا اس دھرتی پہ بسنے والے انسان کی آزادی وعزت کی حفاظت کرنا'' (صفحہ ۸۸وہی کتاب)۔مصنف کے مطابق امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ جمہورعلماکا موقف بھی یہی ہے، یعنی ان کے دورتک علما کی بڑی تعداداسی کی قائل تھی ۔
اس سلسلہ میں ایک تیسرا موقف مولانا امین احسن اصلاحی اور ممتازعالم دین اورمفکرجناب جاوید احمد غامدی کا ہے کہ اتمام حجت اگر کسی گروہ پر کردی جائے تو پھر اس گروہ کو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی تلواروں سے سزا دلواتے ہیں۔ اس موقف کی بنیاد سورۂ براء ت کی یہ آیت ہے: 'قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ'، ''ان سے لڑو اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان کوسز ادلوائے گا اور انھیں ذلیل وخوار کرے گااور ان کے مقابلے میں تمھاری مدد کرے گا'' (۹: ۱۴)۔ غامدی صاحب کی تشریح میں یہ نبی کے براہ راست مخاطبین کا حکم ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس حکم کا اطلاق نہ ہوگا، کیونکہ اب ویسے اتمام حجت کی کوئی شکل نہیں رہ گئی، جیسا نبی کے ذریعے سے ہوا کرتا ہے۔ مولانا سبحانی کہتے ہیں کہ قرآن میں اتمام حجت کے بعد بھی کوئی سزا بیان نہیں کی گئی اور جو سزا بیان کی گئی، وہ آخرت سے متعلق ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ جہاد اصلاً جبر و ظلم کی قوتوں کے خلاف ہوتا ہے جو اسلامی دعوت پر حملہ آورہوتی ہیں،عام لوگوں کو اپنا غلام بنالیتی ہیں اور جو اللہ کے دین اور ان کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہیں( دیکھیے اسی کتاب کا صفحہ۹۵)۔ غامدی صاحب نے اپنے موقف کی جووضاحت'' میزان ''میں کی ہے، اُس سے سبحانی صاحب نے تعرض نہیں کیاہے۔
موجودہ دورکی مسلح تحریکات حضرت ابوبصیر اور ابوجندل کے واقعات سے دلیل پکڑتی ہیں کہ کہیں بھی اگر ۵، ۷ ہم خیال لوگوں کا ایک جتھاجمع ہوجائے توان کے لیے جہادی کارروائیاں کرناجائز ہوجائے گا۔وہ غیرمسلم عوام کوبھی حربی فرض کرکے ان کومباح الدم سمجھتے ہیں۔ہندوستان میں ایک بزرگ مولاناعبدالعلیم اصلاحی اسی نقطۂ نظرکی نمایندگی کرتے ہیں اوراس کی حمایت میں کئی کتابچے لکھے ہیں۔جلدبازاورجوشیلی طبیعتوں کا ایک گروپ ان سے متاثرہورہاہے ۔مصنف مدظلہ نے اس خطرناک رجحان کا بھی بروقت نوٹس لیاہے اوران کے استدلال کی بنیادی خامی کی وضاحت کی ہے (ملاحظہ ہو: ۳۱۸ تا ۳۳۴)۔
جزیے کے سلسلے میں مولانا کی راے یہ ہے کہ اس کو فکر اسلامی میں غلط طور پر لیا گیا ہے۔ اس کا تعلق عوام سے ہے ہی نہیں وہ تو ایک ٹیکس ہے اور مغلوب حکومت سے لیا جاتا ہے نہ کہ عام لوگوں سے۔ مولانا کے جنگی قیدیوں کے نزدیک غلامی کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، اس لیے قرآن 'فَاِِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً' (محمد ۴۷: ۴) دو ہی حکم جنگی قیدیوں کے بیان کرتا ہے (دیکھیے: ۲۷۶) سرسید کا موقف بھی یہی تھااوراس کے لیے انھوں نے ایک پورارسالہ ابطالِ غلامی پر لکھاتھا۔
کتاب میں مولانا سبحانی نے موضوع سے متعلق بہت سے فقہا وعلما، مفسرین اور موجودہ مفکرین کے خیالات پر تنقید فرمائی ہے۔ ان کے بعض اقوال تو نقل کردیے ہیں، مگر نہ ان کا نام لیا ہے، نہ ان کی کسی تحریر کا حوالہ دیا ہے۔ شاید انھوں نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی۔ خاک سار تبصرہ نگار کی راے میں ان کا نام لینا اور تحریروں کا حوالہ دیا جانا بہت ضروری تھا، اس لیے کہ موجودہ دور میں عموماً جہاد کے بارے میں جتنے غلط رجحانات وتشریحات رائج ہیں اورجو کنفیوژن پھیلا ہوا ہے، وہ انھی حضرات کی فکر وتحریر سے پھیلا ہے، ا س لیے اس مسئلہ میں کوئی رعایت نہیں کی جانی چاہیے۔
صلح حدیبیہ: صلح حدیبیہ اسلام کی تاریخ میں ایک Turning Pointہے۔ ا س میں مسلمان دفاع کے بجاے اقدام کی پوزیشن میں آگئے تھے اور دعوتی سرگرمیاں بھی تیزی سے پھیلیں۔ مولانا وحیدالدین خاں نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے، مگر وہ اس کا صرف ایک پہلو ذکر کرتے ہیں صلح والا،اور اس کے دوسرے مضمرات سے صرف نظر کرجاتے ہیں۔ مولانا عنایت اللہ سبحانی نے اس پر مولانا خان صاحب کابغیر نام لیے دلائل کے ساتھ تعاقب کیا ہے اور صلح حدیبیہ کی صحیح نوعیت کو واضح کیا ہے (ملاحظہ ہو صفحہ ۱۸۵)۔
سیر ت نبوی میں بنو قریظہ کا واقعہ بہت مشہورہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے تمام جنگ کرسکنے والے مردوں کو قتل اور عورتوں وبچوں کو غلام بنالیا تھا ۔ مستشرقین اور معاندین کو بڑا مسالا اپنے معاندانہ پروپیگنڈے کے لیے اس واقعہ سے ملتا ہے۔ سبحانی صاحب نے اس واقعہ کی تحقیق کی ہے ، جن سندوں سے یہ مروی ہوا ہے، ان کے راویوں کا جائزہ لیا اور درایتاً بھی اس پر تنقیدی نظر ڈال کر اس کو کلیتاً مسترد کردیا ہے (ملاحظہ ہوصفحہ ۲۷)۔ موجودہ دور میں حادثہ قریظہ پر اور تحقیقات منظرعام پر آئی ہیں۔ ایک اور مصنف نے بھی اچھی دادتحقیق دی ہے۔ اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتاہے ۔ اپنی دوسری تمام تحریروں وتقریروں کی طرح مؤ لف گرامی نے صرف قرآن کریم اور صحیح احادیث کو اپنی بحث کی اصل بنیاد بنایا اور یہی اس کتاب کی اصل خوبی ہے۔ مولانا فرماتے ہیں: ''جہاد و قتال کے سلسلہ میں علماء کے ذوقی اجتہادات پر اعتماد کرنا صحیح نہیں ہے، چاہے وہ آج کے علماء ہوں یا پچھلے ادوار کے۔ ضروری ہے اس سلسلہ میں براہ راست قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ علماء وفقہاء کی بس وہی باتیں قابل قبول ہوتی ہیں جو قرآن وسنت کے محکم دلائل پر مبنی ہوں۔ رہیں وہ راے جو ان کے محض ذوق وفہم کی پیداوار ہوں تو اس طرح کے اہم معاملات میں وہ حجت نہیں بن سکتیں'' (جہاد اور روح جہاد صفحہ ۳۱۸)۔
مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کا مسئلہ: ظالم مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کے مسئلہ میں اہل علم کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب تک ان کی طرف سے کفر بواح کا ظہور نہ ہو، خروج جائز نہیں۔ امام نووی اس کو اجماعی راے بتاتے ہیں۔ تاہم امام ابوحنیفہ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اگر خروج کرنے والوں کے پاس مناسب حکمت عملی، کافی قوت اور متبادل نظم موجود ہو اور خروج کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں تو خروج کردینا چاہیے۔ یہی راے مصنف کتاب نے بھی اختیار کی ہے۔ اور سلسلہ میں وارد کئی روایتوں پر سنداً اور درایتاً کلام بھی کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو اجماعی راے اس مسئلہ میں بیان کی جاتی ہے، وہ کوئی حتمی مسئلہ نہیں، بلکہ وقتی علاج تھا کہ اس کو دائمی حکم ماننے کی صورت میں کبھی اصلاح احوال کی گنجایش نکلے گی ہی نہیں۔ البتہ یہاںیہ سوال بجاطورپر اٹھتاہے کہ تاریخ اسلام کا سبق کیاہے ۔بنی امیہ کا تختہ پلٹ کرنے کے لیے ہاشمیوں اور عباسیوں نے خفیہ تحریک چلائی۔ جب وہ کامیاب ہوگئی توآغازہی میں بنوامیہ کوچن چن کر قتل کردیاگیا۔ایک اموی شہزادے نے بھاگ کرجان بچائی اوراندلس جاکرایک نئی خلافت کی داغ بیل ڈال دی۔ عباسی تحریک علویوں کے حق کے نام پر چلائی گئی تھی، مگرجب عباسی خلفانے بھی علویوں کوخفیہ طورپر ختم کرناشروع کر دیا تو ردعمل میں انھوں نے افریقہ میں جاکرفاطمی خلافت قائم کرلی ۔یوں ایک خلافت تین معاصراورمعاندقوتوں میں بکھر کررہ گئی ۔موجودہ دورمیں قائم شدہ حکومتوں کے خلاف خروج کے نتائج مصر، سیریا، عراق اورلیبیامیں سب کے سامنے ہیں!
مصنف کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں کرنے کا کام: موجودہ دورمیں اصل کام یہ نہیں کہ یوں ہی تلوار ہاتھ میں لے کر معصوموں کا قتل، خودکش بمباری وغیرہ جیسے غیراسلامی کام کیے جائیں۔ اصلاح احوال کے سلسلہ میں پہلا کام ہے: فرزندان اسلام کی تعلیم وتربیت کا زبردست اہتمام۔ دوسرا یہ ہے کہ امیج بلڈنگ ہو، اسلام کی ایک دلکش تصویر لوگوں کے سامنے لائیں۔ غلط فہمیاں دور کریں۔ اور چونکہ آج طاقت کی علامت یا طاقت کا پیمانہ علم، سائنس اور جدید تکنالوجی ہے بغیر ان کے کوئی جنگ نہیں لڑ ی جاسکتی نہ کوئی صالح انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، اس لیے علمی دوڑ میں بھرپور حصہ لیں اور علم وسائنس کے میدان میں دوسری قوموں سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہ علم وسائنس مسلم امت کی میراث ہے۔ یہ ہمارے بزرگ اسلاف کی ایجاد ہے، یہ علم وسائنس کتابِ الٰہی کا فیضان ہے (خلاصہ)۔
کتاب میں سیرت کے کئی جزوی واقعات، مثلاً کعب بن اشرف کا قتل، عقبہ بن ابی معیط کا قتل، فتح مکہ کے موقع پر کئی لوگوں کے خون کو مباح کردینے کا قصہ وغیرہ بھی زیربحث آئے ہیں۔ مولانا کی تحقیق عام سیرت نگاروں سے الگ ہے۔ اس کے علاوہ جہاد وقتال سے متعلقہ متعدد آیات کریمہ کی صحیح تاویل اور نئی تفسیر سامنے آتی ہے۔ انھوں نے ضمناً یہ بات بھی واضح کی ہے کہ امت مسلمہ کوکس قسم کے ہتھیاربنانے چاہییں اورکن ہتھیاروں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ کئی مباحث ایسے ہیں جن پر مزید تحقیق کی گنجایش معلوم ہوتی ہے۔ کل ملاکریہ کتاب اس اہم موضوع پر نہایت علمی اور ہر خاص و عام کے لیے قابل مطالعہ ہے۔ مصنف کا اسلوب خالص علمی اور خشک تحقیقی نہیں، بلکہ اس میں ادبی و تذکیری پہلو بہت ابھرا ہوا ہے اور انھوں نے لکھا بھی تفصیل واطناب کے ساتھ ہے۔ مگر غیر ضروری جزئیات اور تفصیلات سے دامن بچایا ہے۔مصنف گرامی بنیادی طورپر قرآن کریم کے ماہر اورمفسر ہیں۔وہ انسانوں سے محبت رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں دعوتی ،فکری اوراصلاحی ہوتی ہیں اورقاری کوجذبۂ عمل پر ابھارتی ہیں،اورعقل کومطمئن کرنے کے ساتھ ہی دل کے تاروں کوچھیڑتی اورانسانی ضمیرکوآوازدیتی ہیں۔کتاب میں تفسیر، حدیث، فقہ وسیرت و تاریخ کے بہت سے واقعات ومباحث بھی مختصراً زیر بحث آگئے ہیں۔ امید ہے کہ جہاد اور اس کے متعلقات پر اس کتاب سے نیاڈ سکورس شروع ہو گا، کیونکہ اس میں پہلی بار فقہا و تحریکات اسلامیہ کے روایتی موقف جہاد پر تنقید کی گئی ہے۔ کتاب اہل فکر اور اہل تحقیق کو مزید غور وفکر اور بحث وتحقیق کی دعوت دیتی ہے۔ کوئی بھی تحقیق حرف آخر نہیں ہوتی۔ جومباحث مصنف گرامی نے اٹھائے ہیں اوران کے دلائل دیے ہیں، ضروری ہے کہ اہل علم ان پر اظہار خیال کریں۔ راقم خاک سارکے نزدیک قرآن پاک کے طالبین اس کے اصل مخاطب ہیں اوران کوآگے بڑھ کراس کی طرف توجہ کرنی چاہیے اوراس بحث کوآگے بڑھاناچاہیے۔کتاب کا عربی وانگریزی ترجمہ بھی آناچاہیے۔مناسب گٹ اپ میں ہدایت پبلشرز ایف ۱۵۵فلیٹ ۲۰۴ہدایت اپارٹمنٹ شاہین باغ جامعہ نگر نئی دہلی نے یہ وقیع کتاب شائع کی ہے۔

Print this item

Information حضرت فکیہہ بنت یسار رضی اﷲ عنہا
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:36 PM - Forum: General Discussion ( Mix Topic ) - No Replies

حضرت فکیہہ بنو ازد سے تعلق رکھتی تھیں۔ یسار(یا افلح بن یسار)ان کے والد تھے ، شوہر کا نام حطاب (خطاب: ابن سعد) بن حارث تھاجوقریش کی شاخ بنو جمح سے تعلق رکھتے تھے۔حطاب کے دادا معمربن حبیب زمانۂ جاہلیت میں اپنے قبیلے میں اہم مرتبہ رکھتے تھے۔عام الفیل کے بیس برس بعد، ۵۹۰ء میں چوتھی جنگ فجار(یا فجار اکبر) ہوئی تو انھوں نے بنوجمح کی نمایندگی کی۔ اس جنگ میں قریش اور اس کے حامی قبائل کو فتح حاصل ہوئی۔معمر بن حبیب نے لڑتے ہوئے جان دے دی۔ ابو تجراۃ حضرت فکیہہ کے بھائی تھے۔ حضرت فکیہہ کا شمار 'السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ'* میں ہوتا ہے۔ حضرت حطاب بن حارث، ان کے بھائی حضرت حاطب بن حارث، حضرت معمر بن حارث اور حضرت حطاب کی اہلیہ حضرت فکیہہ بنت یسار ایک ساتھ نعمت ایمان سے سرفراز ہوئے۔ تب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم دار ارقم میں تشریف نہ لائے تھے۔ ابن ہشام کی بیان کردہ ترتیب کے مطابق یہ چاروں سابقین الی الاسلام پینتیسویں، چھتیسویں، سینتیسویں اور اڑتیسویں نمبر پر ایمان لائے۔
حضرت فکیہہ بنت یسار نے حبشہ اور مدینہ، دونوں شہروں کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بعثت نبوی کے تیسرے سال اﷲ نے اپنے نبی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ.(الحجر۱۵: ۹۴)
''(اے نبی)، آپ کو جو حکم نبوت ملا ہے، اسے ہانکے پکارے کہہ دیجیے۔''
وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ.(الشعراء ۲۶: ۲۱۴)
''اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کیجیے۔''
جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی، مکہ میں دین اسلام کاچرچاہونے لگا اور مشرکوں کو اپنے بتوں کی خدائی خطرے میں نظر آنے لگی تو انھوں نے نو مسلم کمزوروں اور غلاموں پر ظلم و ستم ڈھانے شروع کر دیے۔ نبوت کے پانچویں سال یہ سلسلہ عروج کو پہنچ گیا تونبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مشورہ ارشادکیا: ''تم اﷲکی سرزمین میں بکھر جاؤ۔'' پوچھا: ''یارسول اﷲ، ہم کہاں جائیں؟'' آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ''وہاں ایسا بادشاہ (King of Axum) حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ امن اور سچائی کی سرزمین ہے، (وہاں اس وقت تک قیام کرنا) جب تک اﷲ تمھاری سختیوں سے چھٹکارے کی راہ نہیں نکال دیتا۔'' چنانچہ رجب ۵ ؍ نبوی(۶۱۵ء) میں سب سے پہلے سولہ اہل ایمان نصف دینار کرایہ پر کشتی لے کر حبشہ روانہ ہوئے۔قریش نے مہاجرین کا پیچھا کیا، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے وہ اپنا سفر شروع کر چکے تھے۔
شوال ۵ ؍ نبوی میں قریش کے قبول اسلام کی افواہ حبشہ میں موجود مسلمانوں تک پہنچی توان میں سے کچھ یہ کہہ کر مکہ کی طرف واپس روانہ ہو گئے کہ ہمارے کنبے ہی ہمیں زیادہ محبوب ہیں۔مکہ پہنچنے سے پہلے ہی ان کومعلوم ہو گیا کہ یہ اطلاع غلط تھی تو ان میں سے اکثرحبشہ لوٹ گئے۔ حضرت ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ مکہ لوٹنے والوں پر جب ان کی قوم اور خاندان کی طرف سے اذیت رسانی کا سلسلہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہواتو رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں بار دگر حبشہ جانے کی اجازت دے دی۔ان کے ساتھ کئی دیگر مسلمان بھی جانے کو تیار ہو گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اﷲ، آپ تو ہمارے ساتھ نہیں چل رہے؟ فرمایا: تمھاری دونوں ہجرتیں اﷲ کی طرف اور میری خاطر ہیں۔اس ہجرت ثانیہ میں اڑتیس مرد ، گیارہ عورتیں اور سات غیر قریشی افراد شامل ہوئے۔ حضرت فکیہہ بنت یساران میں سے ایک تھیں۔ حضرت فکیہہ کے شوہر حضرت حطاب نے بھی حبشہ کو ہجرت کی۔ایک روایت کے مطابق وہ راستے ہی میں وفات پا گئے، تاہم حضرت ابن سعد کا کہنا ہے کہ ان کا ا نتقال ارض حبشہ میں ہوا۔ حضرت حطاب کے بھائی حضرت حاطب بن حارث، ان کے بھتیجوں حضرت محمد بن حاطب، حضرت حارث بن حاطب، ان کے چچا حضرت سفیان بن معمر، ان کے چچا زاد حضرت جابر بن سفیان، حضرت جنادہ بن سفیان، حضرت حاطب کی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت مجلل (یا محلل) نے بھی سفر ہجرت میں شرکت کی۔ ابن جوزی کے مطابق حضرت محمدبن حاطب اس سفر میں موجود نہ تھے ، ان کی ولادت حبشہ میں ہوئی۔
ابن اسحاق اوران کے تتبع میں ابن ہشام اور ابن کثیرنے ان دونوں ہجرتوں کے مابین ایک تراسی رکنی قافلے کی روانگی کی خبر دی ہے جو حضرت جعفربن ابوطالب کی قیادت میں حبشہ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت فکیہہ بنت یسار، ان کے شوہر حضرت حاطب بن حارث، حضرت حاطب کے بھائی حضرت حطاب، حضرت حطاب کی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت مجلل، ان کے بیٹے حضرت محمدبن حاطب، حضرت حارث بن حاطب، حضرت حاطب کے چچا حضرت سفیان بن معمر، ان کی اہلیہ حضرت حسنہ اور بیٹے حضرت جابر اور حضرت جنادہ بھی اسی قافلے میں شامل تھے۔ یہ خبر اس روایت سے مؤید ہو جاتی ہے جو حضرت محمد بن حاطب نے خو د اس طرح بیان کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے (قریش کا ظلم و ستم سہنے والے صحابہ سے) ارشاد فرمایا: ''میں نے کھجوروں بھری ایک سرزمین (حبشہ یا مدینہ) دیکھ رکھی ہے ،تم اس کی طرف ہجرت کرجاؤ۔'' چنانچہ (میرے والد) حضرت حاطب اور حضرت جعفربن ابوطالب ایک کشتی میں سوار ہو کر نجاشی کی جانب نکل گئے۔ حضرت محمدبن حاطب کہتے ہیں: ''میں اسی کشتی میں پیدا ہوا'' (احمد، رقم ۱۸۱۹۴)۔ مزی نے حضرت محمدبن حاطب کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے کشتی میں ان کی پیدایش کا ذکر کرنے کے بجاے لکھا کہ حضرت محمد سرزمین حبشہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنی والدہ کے علاوہ حضرت جعفربن ابوطالب کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس کا دودھ بھی پی رکھا تھا۔
حضرت فکیہہ بنت یساران اکتالیس افراد میں شامل نہ تھیں جنھوں نے آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کی خبر سن کرمکہ کی طرف رجوع کیا۔
۶۲۶ء میں ہجرت مدینہ کو سات برس بیت گئے تو حضرت جعفربن ابوطالب اور باقی مہاجرین نے یہ کہہ کر مدینہ جانے کی خواہش ظاہر کی کہ ہمارے نبی کو غلبہ حاصل ہو گیا ہے اور ان کے جانی دشمن مارے جا چکے ہیں۔تب نجاشی نے زاد راہ اور سواریاں دے کر ان کو رخصت کیا (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۴۷۸)۔ ابن سعد کے بیان کے مطابق رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ازخود حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو حبشہ بھیجا تاکہ وہ نجاشی کو اسلام کی دعوت دیں، حضرت ام حبیبہ (رملہ) بنت ابوسفیان سے آپ کا نکاح کروائیں اور سرزمین حبشہ میں رہ جانے والے مہاجرین کو واپس لے آئیں۔ چنانچہ حضرت عمروبن امیہ مہاجرین کو دو کشتیوں میں سوار کر کے مدینہ لائے۔ حضرت فکیہہ بنت یسار، حضرت حاطب بن حارث کی بیوہ حضرت فاطمہ، حضرت حاطب کے بیٹے حضرت محمد اور حضرت حارث بھی ان کشتیوں میں بولا (حجاز) کے ساحل پر پہنچے۔یہاں سے وہ باقی مہاجرین کے ساتھ اونٹوں پر سوار ہو کر مدینہ پہنچے۔
مدینہ میں حضرت فکیہہ بنت یسار کی زندگی کے بارے میں ہمیں کوئی روایت نہیں ملتی۔یہ بھی معلوم نہیں کہ شوہر کی وفات کے بعد کیاوہ کسی اور کی زوجیت میں آئیں؟ اور ان کا انتقال کب ہوا؟
گمان غالب ہے کہ حضرت فکیہہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں وفات پا گئیں ۔ ان سے کوئی روایت مروی نہیں ،ان کی بھتیجیوں برۃ بن ابوتجراۃ اور حبیبہ بنت ابوتجراۃ سے حدیث روایت کی گئی ہے۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔

Print this item

Information Whats app New Groups Links 2018
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:28 PM - Forum: Whats app Groups - No Replies

Whats App Group Ko Join karne Ke Liyea Aap In Links Per Click Kren Us Ke Baad Open With Whatsapp Per Click Kren Group Join Ho Jaye Ga, Agar aap is web ko Computer per use kar rahe hain to Web.whatsapp.com Open kar ke in groups ko join kar sakte hain.

Print this item

Information Whats application Group In Just Few Minutes
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:24 PM - Forum: Whats app Groups - No Replies

Today I'm energized Yes You Can Join Unlimited New Whats application Group In Just Few Minutes I'm Posting In This Post Many Whats application Group Link If you Can Join Any Group Just Click Group Neme and Opan Group Link with Whats application. In Few Seconds You Join This Group. 

This Type You Join All Group. All Group Different, New, Latest, and Have Many Other Qualities.I'm Posting 100 whats application Group Link.This is The All Category whats application Group List like Entertainment, Funny, Shayri Jock, Cricket, Bollywood, 18+ Sexy Group, International Group Etc. So Friends Let's Start Joining Your Favorite Group.
IMPORTANT NOTE: You Join Any Group Your Own Risk I do not have any responsibility if anything ... 

1. Vworldz.com

2. Anand Amit UPSC Academy (Only Study)

3. Whatsapp India

4. Larn Hack Trick Easily

5. New Family Of IT

6. Porn Sex 

7. Love Status

8. Sex Time

9. Indian Cool

10. Only Mumbail whatsapp Group

11. Xxx Group

12. Anand Amit IAS University (only IAS Preparation)

13. Duniya Matlabi Hai 

14. Competitive Exam 2017

15. SSC Preparation

16. Animal Sex Group

17. दिल से शायरी

18. YouTube Group

19. Earn Online 2018

20. International whatsapp Group 

21. Hot WhatsApp
22. Speak English whatsapp Group

23. Absolutely Hardcore

24. Adult Group

25. Speck English

26. Styles Life

27. WhatsApp Status

28. Bad Boys Saanu

29. Good morning States

30. Education WhatsApp

31. Technical India

32. XXX Group

33. WhatsApp Friends

34. English Friends

35. Jocks On Funny


36. Secret Life of RLC

37. Cool Group

38. England WhatsApp

39. Gujarat whatsapp Group

40. International Hot Group

41. Hindustan

42. Brazilian xxx

43. Sexy Story

44. Boyzzz 

45. Usa Hot Group

46.  Cyeber Hunters

47. All Fun

48. Frances Hot

49. Muslims

50. World wide group

51. Musical Group

52. International Sex Group

53. France WhatsApp Group

54. Bollywood WhatsApp Group

55. Veer Shivaji

56. मोकाटमंडळ18+फक्त व्हिडिओ

57. YouTube Subscriber

58. USA Latest

59. Hindustan

60. DS Group

61. 18+ Group

62. Hackers

63. Urdu WhatsApp

64. 2017

65. International Hunter

66. YouTube India

67. YouTube Tricks

68. Technical Class

69. Xda it

70. India Latest

71. YouTuber's

72. Faraz Shayri

73. YouTube Trend

74. Unlimited Masti

75. English Learner

76. Karnataka Boys

77. Important Group

78. youtubers whatsapp group

79. Selfie Group

80. Whatsapp Status video

81. Math Solution

82. Hot Videos

83. Whatsapp King

84. Mazedaar Group

85. Crimes Stopper Group

86. Jocks Group No Links

87. Awesome Blossom

88. HTML Programing Language

89. C Programming language

90. All CG GK

91. DJ Bass Of Mixing

92. Sunny Leone

93. Love Shayri & Status

94. Ft Broadcast

95. Cultural Exchange

96. Muslim Group

97. No Chat only video

98. Funny Jocks

99. Intex

100. Porn Group Whatsapp

Print this item

Information Social Santra Media News Whats app Group
Posted by: admin - 04-12-2017, 08:19 PM - Forum: Whats app Groups - No Replies

Join Online News Whatsapp Groups Links Social Santra Media News Whats app Group.
Social Santra Media News
Chattishgarh
Desi Sughal Whatsapp Group
IPL 10 Fan Club 
Video Send Here 
Hacker Zone
KKR Fan Club
Deep Web
Porn+18

Print this item

Information How To Complaint Hate Speech
Posted by: admin - 16-11-2017, 06:15 PM - Forum: All About Islam - No Replies

*اہم اطلاع*
   
*Hate Speech act*

اگر کوئی شخص اسلام یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں سوشل میڈیا.... 
Facebook, whatsapp, twitter وغیرہ پر کوئی گستاخی کرتا ہے تو اس پوسٹ کی پرنٹ لے کر نزدیکی پولیس اسٹیشن میں جا کر *"IT Act Section 66,153(A),295IPC"*
کے تحت اس پر F. I. R درج کرائیں... 
اس پر غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہو جائے گا... 

سبھی حضرات اس پوسٹ کو عام کریں

Print this item

Information Share Your Pakistani Whats App Group Here
Posted by: Ayesha Khan - 15-11-2017, 10:16 PM - Forum: Whats app Groups - No Replies

Share Your Pakistani Whats App Group Here, Automatic Add People In Your Whatsapp Group, Only Pakistani Groups Share Here Indian Whatsapp Groups Not Allow, Pure Pakistani Whatsapp Groups.
Add Me In Whatsapp Pakistani Groups +923012059108.

   

Print this item

Forum stats
Latest posts
Topic Date, time  Author Last Sender
  Chinese Movies Dramas And Funn... 01-12, 00:33 admin admin
  Free Lancer Pakistani Group Li... 01-10, 19:54 admin admin
  YouTube Buddies Facebook Group 01-10, 19:50 admin admin
  Pakistani Youtubers Facebook G... 01-10, 19:45 admin admin
  Online Earning Forum Facebook ... 01-10, 19:12 admin admin
  Biggest Online Money Earning T... 01-10, 19:08 admin admin
  Bitcoin USA Facebook Groups 01-10, 19:01 admin admin
  The USA Facebook Groups with O... 01-10, 18:48 admin admin
  Sugar Ka Ilaaj In Urdu By Vege... 01-10, 18:32 admin admin
  Promote Your Wallpaper Website... 01-07, 16:38 admin admin
  Premium Prize Bond Registered ... 01-07, 15:49 admin admin
  Prize Bond 15000 Result List 2... 01-07, 15:35 admin admin
  750 Prize Bond Formula And Rou... 01-07, 15:26 admin admin
  Prizebond Formula And Routine ... 01-07, 15:24 admin admin
  Prizebond 750 Formula And Rout... 01-07, 15:23 admin admin
  750 Prize Bond Draw Routine 20... 01-07, 15:22 admin admin
  Prize Bond Draw Schedule 2018 01-03, 19:39 admin admin
  Health Care And Beauty Tips Fo... 01-03, 19:35 admin admin
  Rawalpindi Ka Badshah Guess Pa... 12-14, 16:53 Syed Qasim Shah Syed Qasim Shah
  200 Rupee Last Year Draw Guess... 12-14, 16:40 Syed Qasim Shah Syed Qasim Shah
  Pakistani Best Prizebond Guess... 12-14, 16:36 Syed Qasim Shah Syed Qasim Shah
  رمضان کے حروف اور ان کی برکتیں 12-04, 20:57 admin admin
  فضائل رمضان المبارک احادیث کی ... 12-04, 20:47 admin admin
  جہاد اور روح جہاد کتاب و سنت ک... 12-04, 20:39 admin admin
  حضرت فکیہہ بنت یسار رضی اﷲ عنہ... 12-04, 20:36 admin admin
Top thread posters
NEHA BALOCH 493
hattem ali 424
admin 317
hamzakhan 221
sumaira 215
Mujahidnawaz 178
Saleemstar50 166
seemab 132
TOOBA 131
Abbashussain 125
MUNIBA UMAIR 113
Aiman 106
Top posters
NEHA BALOCH 766
admin 719
hattem ali 427
Abbashussain 416
sumaira 408
sarahnaeem 318
hamzakhan 276
TOOBA 224
Aiman 216
Saleemstar50 200
Mujahidnawaz 194
seemab 141
Top referrers
admin 86
Asif Ali Mirani 4
sidrah 4
babry 4
sumaira 3
KIRANPIRANI 3
Mujahidnawaz 2
Saleemstar50 2
Pak123 2
NEHA BALOCH 2
abdullah110 2
Doneonline 2
Newest members
ayeshanoor 02-10
Bbokbbbbbb 01-12
AZAD 12-22
lucyambrose 12-11
claudiakirke 12-11
Javed Iqbal 12-02
kamilkhan 11-25
Abubaker304 11-21
noorshah 11-19
Maha ALi 11-19
mehakjee 11-18
shahjee97 11-11
Most replies
  Share online vi... 38
  Admin ka gussa 29
  Free cline for ... 22
  what is the mea... 22
  Happy Birthday ... 21
  Share your city... 19
  Doneonline Work... 16
  kia ap k pass h... 15
  Who has more co... 13
  Kuch pyare paki... 12
  dil dharakny ka... 12
  Shab-e-baraat k... 12
Most views
  Free cline for ... 34401
  Share your city... 14456
  Physics 9th cla... 13541
  vbulletin theme... 9000
  Earn money with... 7793
  Share online vi... 7606
  General Knowled... 6229
  gajar ka halwa ... 6014
  loh e qurani hd... 5668
  Admin ka gussa 5441
  Happy Birthday ... 5194
  new offer for s... 5075
92 news live
ab tak live tv
bol news live channel
 dawn news live streaming
Khyber News
 News one live
waqt news live
sindh news live
Hum tv live
Sach tv live
aaj tv live

About Doneonline Forum :

* ~ * pakistani urdu forum Doneonline.net * ~ * General Information about any topic or other IT News. Discuss any topic . All topic discussion here. Any knowledge that can enhance your basic information about education. Follow the rules and don't post things not falling in this category. Doneonline Forum you can find your missing Friend/mate. Help and support on internet related issues and problems. Share and Get latest Video Tutorials Related about , Pc & Internet . You can learn Computer's & Internet tricks and tips by Videos. All software , bandle of images , pc theme and application . Please do,t post Nulled Softwares aur any illegal count. Share & Download here All Pc Games ,Adventurous games, Action games, Horor games and Racing games , Etc. Special for woman Woman Discussion , All about beauty tips and tricks sharing in urdu ,special views of health and illness recognize health as more than the absence of disease. Health care tips in urdu and Urdu & English Cooking Recipes share here. you can Share Your Experience . All about Mobile Communications Network , Mobilink , Ufone , Zong , Warid , Telenor latest offers and packages & Tricks. You can share Mobile free internet tricks and Tips.